صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان سرکارِ دو عالم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحَبَّت میں اس قَدر مُنہمِک ومُستغرق رہا کرتے تھے کہ ا نہیں دُنیا ومافِیْہا سے کوئی رَغبت نہ ہوتی، وہ حضرات اکثر اَوقات جَلوۂ محبوب کی تابانیوں سے مَحظُوظ ہوتے اور ہر لمحہ آپ کی صُحبت بابَرَکت میں رہنا پسندکرتے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جُدائی ا نہیں ہرگز گوارہ نہ تھی حتیٰ کہ ہمارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ مُقدَّسہ کو اپنے اَہلِ خانہ پر ترجیح دیتے ۔ چنانچہ
زید بن حارثہ رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ کاعِشقِ رسول
حضرت سیِّدتُناخدیجہ رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہا نے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام سے نکاح کے بعد اپنے غلام حضرت زید بن حارثہ رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ کو سرکار عَلَیْہِ السَّلامکی خِدْمت میں بطورتُحفہ پیش کردیا، آپ رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ صِغَرسِنی (بچپن) ہی سے بارگاہِ رسالت میں رہا کرتے اور آپ کی صُحبت با بَرَکت میں رہ کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدار پُر بہار سے فیضیاب ہوا کرتے ، حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کی بے پناہ شفقتوں کی وجہ سے آپ کی مَحَبَّتمیں ایسے گرفتار ہوئے کہ ماں ، باپ اور دیگر اہل خانہ کی یاد نہ آتی۔ ایک بار ان کے والد اور چچا فِدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی خاطر مکہ مکرمہ پہنچے، تحقیق کی ،پتا