Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
300 - 645
کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلام نے اپنا دستِ مُبارک میرے جسم پر پھیرا اور اپنی مُبارک چادر میرے جسم پر ڈال دی ۔ اس کی بَرکت سے میں  فوراً صحتیاب ہوگیا ۔ جب میں  نیند سے بیدار ہوا تو اپنے آپ کو کھڑے ہونے اور حَرکت کرنے کے قابل پایا ۔ 	
                                                                              یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُنْظُرْحَالَنَا		طالبِ نظرِ کرم بَدکار ہے
یَاحَبِیْبَ اللّٰہِ اِسْمَعْ قَالَنَا	التِجا یاسِیّدَ الْاَبرار ہے
     اِنَّنِیْ فِیْ بَحْرِ ھَمِّ مُّغْرَقٌ	ناؤ ڈانواں  ڈول دَر مَنجدھار ہے
خُذْیَدِیْ سَھِّلْ لَنَا اَشْکَالَنَا	ناخُدا آؤ تو بیڑا پار ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
وَسْوَسہ اوراس کاجَواب 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی شِفا دینے والا ہے مگر اس حِکایت کو سُن کر وَسوَسے آتے ہیں  کہ کیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے علاوہ بھی کوئی شِفا دے سکتا ہے؟ 
	اس وَسوَسے کا علاج یہ ہے کہ بے شک ذاتی طور پر صِرْف اور صِرْف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی شِفا دینے والا ہے ، مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے اُس کے بندے بھی شِفادے سکتے ہیں  ۔ ہاں  اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی دی ہوئی طاقت کے بِغیر فُلاں  دوسرے کو شِفا دے سکتا ہے تو یقینا وہ کافِرہے ۔ کیوں  کہ شِفا ہو یا دوا ایک ذَرّہ بھی کوئی کسی کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کے بِغیر  نہیں   دے سکتا ۔ ہر مسلمان کا