Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
30 - 645
 ساری عمر میں  صِرف چند گھنٹے یعنی آدھے دن کی حاضِری نصیب ہوتی ہے۔ یَزِفُّوْن بنا ہے زَفٌّ سے، زَفٌّ کے معنیٰ ہیں  : محبوب کو محبوب تک پہنچانا،اسی سے ہے  زَفَاف (یعنی رخصتی ) کہ اس میں  دُولہا کو دُلہن کے گھر تک پہنچایا جاتا ہے،یعنی قِیامت کے دن اس دن کی ڈیوٹی والے فِرِشتے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دُولہاکی طرح اپنے جُھرمٹ میں  لے کر رَبّ تعالیٰ تک پہنچائیں  گے۔ ‘‘(مراٰۃ، ۸ /۲۸۲تا ۲۸۳)
میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اَہلسُنَّت مُجدِّدِدین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’حدائقِ بخشش شریف‘‘ میں  اسی بات کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کیا خُوب ارشاد فرماتے ہیں  :
سَتّر ہزار صبح ہیں  سَتّر ہزار شام
یوں  بندگِیٔ زُلف و رُخ آٹھوں  پہر کی ہے
جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں  گے
رُخصَت ہی بار گاہ سے بس اس قَدَر کی ہے
تڑپا کریں  بدل کے پھر آنا کہاں  نصیب
بے  حُکْم کب مجال پرندے کو پَر کی ہے
اے وائے بے کسی تمنّا کہ اب اُمید
دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سَحر کی ہے