میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا جب ایک عاشقِ صادق سرکارِدوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سُنَّتوں پر عمل کرتا ہے اور صدقِ دل سے جانِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پردُرُودِ پاک پڑھنے کو اپنی عادت بنالیتا ہے تو پھروہ غمخوارآقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُکھی دلوں کے دَرد کا مُداوا بن کر کبھی توعین بیداری کے عالم میں اور کبھی خَواب میں تشریف لاکر شربتِ دِیدار پلاتے ہیں اور حاجت مندوں کی حاجت رَوائی بھی فرماتے ہیں ۔ چنانچہ
امام بوصیری پر سرکار کا کرم
امام بُوصیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ مجھ پر فالج کا شدید حملہ ہوا جس کی وجہ سے میرا نِصف جسم بالکل بے حِس وحرکت ہوگیا ۔ بہت علاج کروایا مگر خاطِر خواہ فائدہ نہ ہوا ۔ انتہائی یاس و ہِراس کی حالت میں میں نے سوچا کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں ایک قصیدہ لکھوں اور اس کے توَسُّط سے بارگاہ رَبُّ العزَّت میں اپنی صحتیابی کے لئے دُعا کروں ، اللّٰہ جَلَّ شَانُہ کے فَضل وکَرم سے میں اپنے اس اِرادے میں کامیاب ہوگیا ۔ چنانچہ میں نے قصیدہ (برُدہ شریف) لکھنا شروع کیا ، قصیدے کا اِختتام ہوتے ہی میں نیند کی آغوش میں چلاگیا ۔ سر کی آنکھیں تو کیا بند ہوئیں دل کی آنکھیں روشن ہوگئیں ، میری قسمت انگڑائی لے کرجاگ اُٹھی کیادیکھتاہوں کہ میرے خَواب میں نبیِّ