Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
298 - 645
اُ نہیں   دوسری عبادات، گھریلو اور معاشی مُعاملات، پھر سُنَّتوں  کی تبلیغ اور طَعام و آرام وغیرہ کے لیے کس طرح وَقت ملتا ہوگا ؟
	اِس کا جواب یہ ہے کہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہمُ اللّٰہُ الْمُبین ہماری طرح دُنیا کیمَحَبَّت میں  گرفتار  نہیں   تھے اور نہ ہی ہماری طرح ہَرزَہ گوئی (فضول باتیں )  ان کا شیوہ تھا ۔ ہم لوگوں  نے شیطان کے فریب میں  آکر اِس چند روزہ زِندگی ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور ہر وَقت ، ہر لمحہ اس فانی دُنیا کی آرائشوں  اور آسائشوں  میں  گم ہیں  ۔ 
	اَفسوس!قَبرکی طویل زِندگی اور آخرت کی کڑی اور کَٹھن ترین منزل کی طرف ہماری بالکل توجُّہ  نہیں   ۔ بُزُ رگانِ دین اور اَولیاء کاملین رَحْمۃُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْنکو اس بات کامُکمل احساس رہتا ہے کہ یہاں  کی زِندگی چند روزہ ہے، یہ آناً فاناً ختم ہوجائے گی۔ جو کچھ ہے وہ مرنے کے بعد والی اَبَدی زِندگی ہے۔ 
	نیز اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام اور بُزُرگانِ دین رَحِمَہمُ اللّٰہُ الْمُبِین کو یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ دُنیا کی مُختصر سی زِندگی پر ہی بعد والی طویل زِندگی کا اِنحصار ہے ۔ اگر دُنیا کی زِندگی عیش پرستی اور نافرمانی میں  نہ گزاری تو مرنے کے بعد رَحمتِ خداوَندی عَزَّوَجَلَّ  سے اَبدی وسَرمَدی نعمتوں  کی اُمید ِو اثِق (یعنی قوِی اُمید) ہے۔ چنانچہ یہ اللّٰہ  والے اپنی زِندگی اِسلام کے زَرِّیں  اُصولوں  اور پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سُنَّتوں اور آپ کی ذات ِ طیبہ پر دُرُود ِپاک پڑھنے میں  گزار دیتے ہیں  ۔