بارِ عِصْیاں کی ترقّی سے ہُوا ہوں جاں بَلَب
مجھ کو اچھّا کیجئے حالت مِری اچھّی نہیں
(ذوقِ نعت،ص۱۲۹)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دُرُودشریف کی کثرت کے بکثرت فَضائل ہم سُنتے ہی رہتے ہیں ، ان فضائل وبرکات کو سن کر ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کسی کے ذِہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آخر کثرتِ دُرُود کی تعریف کیا ہے؟ کیا چوبیس گھنٹے دُرُود و سلام ہی پڑھتے رہیں جبھی ہم کثرت سے دُرُود و سلام پڑھنے والے کہلائیں گے؟ اس عُقْدے (گُتھی) کو حل کرنے کے لیے مُستَنَد کتابوں سے کثرت ِ دُرُود کی تعریف میں چند بُزُرگانِ دین کے اَقو ال پیش کیے جاتے ہیں ۔ ان میں سے کسی بھی بُزُرگ کے بتائے ہوئے عدد کو معمول بنالیں توآپ کا شُمار بھی کثرت سے دُرُود وسلام پڑھنے والوں میں ہوجائے گا۔ اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہ تمام بَرَکات وثَمرات حاصل ہونگے جن کا احادیثِ مُبارکہ میں تذکرہ ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کسی کو کروڑوں سال کی عُمر مل جائے اور وہ ہر لمحہ دُرُود و سلام ہی پڑھتا رہے توپھر بھی اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ
کثرت سے دُرُود پڑھنے کی تعریف
ابُوالحسن دارمی عَلَیْہِ رَ حْمۃُ اللّٰہِ الْقَوی نے ابوعبدُاللّٰہ بن حامد عَلیہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْمَاجِدکو موت کے بعد کئی مرتبہ خَواب میں دیکھا اور پوچھا : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ