Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
292 - 645
وِرْد شروع کردیا ۔ اِس کی بَرَکت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اُس کو غَنی کردیا اور ایسی جگہ سے اُسے رِزق عطا فرمایا کہ اُسے پتا بھی نہ چل سکا ، حالانکہ اِس سے پہلے وہ مُفلِس اور حاجتمند تھا ۔  
امیرِ اَہلسنَّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  :’’ اگر کوئی شخص مَذکورہ تعداد میں  دُرُودِپاک کا وِرد کرے اورمَذکورہ تنگدستی کے اسباب سے بچتے ہوئے اس سے نَجات کے حل بھی اپنائے ، مگر پھر بھی اس کا فَقْر (یعنی تنگدستی و محتاجی) دور نہ ہو تو یہ اس کی نیت کا فُتُور (یعنی فساد) ہے کہ اس کے باطن میں  خرابی کی وَجہ سے کام  نہیں   بن سکا۔ ‘‘
دَرْاَصْل دُرُودِپاک پڑھنے یا مذکورہ اسباب سے بچنے اورنَجات کے حل اپنانے میں  نِیَّت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اسکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب حاصل کرنے کی ہوتو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ محتاجی ضَرور دُور ہوگی ۔ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مُحتاجی صرف مال کی کمی کانام  نہیں   ہے بلکہ بسا اَوقات مال کی کثرت کے باوُجود بھی انسان مُحتاجی کا شکوہ کرتا ہے اور یہ مَذمُوم فِعْل ہے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  مذکورہ اعمالِ صالحہ کی بَرَکت سے قَناعت کی دولت نصیب ہوگی اور قناعت (یعنی جو مل جائے اس پر راضی رہنا ) ہی اَصْل میں  غَنا (یعنی دولت مندی)ہے اور دُنیاوی مال کا حریص (یعنی لالچی) ہی حقیقت میں  محتاج ہے ۔ کوئی خواہ کتنا ہی مالدار ہو ، قَناعت وہ خزانہ ہے جو کہ ختم ہونے والا  نہیں   اور دُنیاوی