ایک یہ بھی ہے ) کہ جب ہم نے روزی میں بَرَکت طلب کی تو وہ ہم کو نمازِچاشت پڑھنے میں مُیَسَّر ہوئی ۔ (یعنی رِزْق میں بَرَکت پائی) (نزہۃ المجالس، باب فضل الصلوات لیلا ونہاراًومتعلقاتہا،۱/ ۱۶۶)
سورۂ واقعہکا ہمیشہ بالخُصوص بعدِ مغرب پابندی سے پڑھنا ۔ نمازِتَہَجُّد پڑھتے رہنا، توبہ کرتے رہنا اور فجر کی سُنَّتوں اور فرضوں کے درمیان ستّر بار اِسْتِغْفار کرنا ، گھر میں آیَۃُ الْکُرْسی اور سورۂ اِخْلاص پڑھنا اور بکثرت دُرُود شریف پڑھنا رزق میں بَرَکت کے اسباب میں سے ہے۔ (سنی بہشتی زیور، ص ۶۰۹،ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صاحبِ تحفۃُ الاخیارعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْغَفَّار نے ایک حدیثِ پاک نقل کی ہے کہ سرکارِ نامدار ، دو عالم کے مالِک و مختار، شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشادِ مُشکبار ہے : ’’جومجھ پر روزانہ پانچ سو بار دُرُود شریف پڑھے وہ کبھی مُحتاج نہ ہوگا ۔‘‘ (المستطرف،الباب الرابع والثمانون،فیماجاء فی فضل الصلاۃ علی الرسول ،۲/۵۰۸) (روح البیان،پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ:۵۶،۷/۲۳۱)پھر اس حدیث شریف کو نَقل کرنے کے بعد یہ واقعہ بیان فرمایا :’’ ایک نیک آدمی تھا اُس نے یہ حدیث سُنی تو غلبۂ شوق کے ساتھ پانچ سو بار دُرُود شریف کا روزانہ