Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
29 - 645
 سَیِّدُنا کَعب  رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی خِدْمَت میں  حاضِر ہوئے ۔ لوگوں  نے رسُول اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا تذکرہ کیا تو حضرتِ سَیِّدُناکَعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ہر دن ستَّر ہزار فِرِشتے اُترتے ہیں  جو رسُولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قَبر شریف کو گھیرلیتے ہیں  اپنے پر بچھادیتے ہیں  اور رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر  دُرُودشریف پڑھتے رہتے ہیں  ، حتّٰی کہ جب شام پاتے ہیں  تووہ چڑھ جاتے ہیں  اور ان کی مِثْل(دوسرے فِرِشتے) اُترتے ہیں  وہ بھی اِسی طرح کرتے ہیں  ’’حَتّٰی اِذَاانْشَقَّتْ عَنْہُ الْاَرْضُ خَرَجَ فِی سَبْعِیْنَ اَلْفًا مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ یَزِفُّوْنَہٗ، حتیّٰ کہ جب زمین کھلے گی توحُضُور ستَّرہزارفِرِشتوں  میں  نکلیں  گے جوحُضُورکو پہنچائیں  گے۔ ‘‘(مشکاۃ،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق،باب الکرامات، ۲/۴۰۱ ،حدیث: ۵۹۵۵)
اس روایت کے تحت  مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحنّان ارشاد فرماتے ہیں  :’’خیال رہے کہ ہمیشہ سارے ہی فِرِشتے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجتے ہیں  مگر یہ ستَّرہزارفِرِشتے وہ ہیں  جن کو عمر میں  ایک بار حاضِریٔ دَربار کی اِجازَت ہوتی ہے۔ یہ حضرات حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بَرَکت حاصل کرنے کو حاضِری دیتے ہیں  ۔ جوفِرِشتہ ایک بار حاضِری دے جاتا ہے اسے دوبارہ حاضِری کا شَرف  نہیں   ملتا ۔