میں قِسْم قِسْم کے کھانوں کے ضائع ہونے سے لے کر گھروں میں برتن دھوتے وقت جس طرح سالن کا شوربا ،چاول اور ان کے ا َجْزابہا کر مَعَاذَاللّٰہ نالی کی نذر کردیئے جاتے ہیں ، ان سے ہم سب واقف ہیں ، کاش رِزق میں تنگی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظر ہوتی۔‘‘
مزید فرماتے ہیں : ’’بِغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانا، ننگے سر کھانا ، چارپائی پر بِغیر دسترخوان بچھائے کھانا چینی یا مِٹّی کے ٹوٹے ہوئے برتن استعمال میں رکھنا خواہ اِس میں پانی پینا ،یہ سب روزی میں تنگی کے اسباب ہیں اگر ان سے بچا جائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ روزی میں بَرَکت ہی بَرَکت دیکھیں گے۔‘‘(تنگدستی کے اسباب اور ان کاحل)(سنی بہشتی زیور، ص ۵۹۵ تا۶۰۱،ملخصاً)
حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہان ُالدِّین زَرنُوجی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تنگدستی کے جو اَسباب بیان فرمائے ہیں اُن میں سے چند یہ بھی ہیں : چہرہ لباس سے خُشک کرلینا ، گھر میں مکڑی کے جالے لگے رہنے دینا ، نَماز میں سُستی کرنا ، گُناہ کرنا خُصُوصاً جھوٹ بولنا ، ماں باپ کیلئے دُعائے خیر نہ کرنا ،عِمامہ بیٹھ کر باندھنا اور پاجامہ یا شلوار کھڑے کھڑے پہننا ،نیک اعمال میں ٹال مٹول کرنا۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم،ص ۷۳ تا ۷۶)
رِزق میں بَرَکت کے طالب کو چاہیے کہ بے بَرَکتی کے ذِکر کردہ اسباب کا خیال رکھتے ہوئے ان سے نَجات کی ہر ممکن صورت میں کوشش کرے یہ بھی معلوم ہوا کہ