Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
287 - 645
 اسکے پیارے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کے مطابق حل کرنے کی سَعیِ پیہم (مسلسل کوشش) کریں  تواِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دُنیا و آخِرت کی بے شمار بھلائیاں  حاصل کرنے میں  ضَرور کامیاب ہونگے ۔ چنانچہ 
تَنْگدَسْتی سے نَجات کا ذَریعہ
	زبردست مُحَدِّث حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیْہِ رَحْمۃُ الْمَاجِدکو خلیفۂ بغداد مامونُ الرشید نے اپنے ہاں  مَدعو کیا ، طَعام سے فراغت کے بعد کھانے کے جو دانے وغیرہ گر گئے تھے، مُحَدِّث موصوف چُن چُن کر تناوُل فرمانے لگے ۔ مامون نے حیران ہوکر کہا ، اے شیخ! کیا ابھی تک آپ کا پیٹ  نہیں   بھرا ؟ فرمایا: کیوں   نہیں   ! دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد بن سَلَمہ  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے کہ ’’جو شخص دسترخوان پر گرے ہوئے ٹکڑوں  کو چُن چُن کر کھائے گا وہ تنگدستی سے بے خوف ہوجائے گا۔‘‘ (اتحاف السادۃالمتقین،الباب الاول،۵/۵۹۷) لہٰذا میں  اِسی حدیثِ مبارَک پر عمل کررہا ہوں  ۔ یہ سُن کر مامون بے حد متأثر ہوا اور اپنے ایک خادِم کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ایک ہزار دینا ر رومال میں  باندھ کر لایا ۔ مامون نے اس کو حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَاجِد کی خدمت میں  بطورِ نذرانہ پیش کردیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرما یا اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ حدیثِ پاک پر عمل کی