آئے۔ تنگ دستی کا سبب عظیم خود ہماری بے عملی ہے جس کو سورۂ شوریٰ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ وَ یَعْفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾
(پ ۲۵،الشُّوریٰ:۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو مُعاف کردیتا ہے۔
جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتُوت شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام بُرا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس صدافسوس! کہ آج ہم اپنے مسائل کے حل کے لئے مشکل ترین دُنیوی ذَرائع استعمال کرنے کو تو تیار ہیں مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اسکے پیارے رَسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عطا کر دہ روزی میں بَرَکت کے آسان ذَرائع کی طرف ہماری توجُّہ نہیں ۔ آج کل بیروزگاری و تنگدستی کے گمبھیر مسائل نے لوگوں کو بے حال کردیا ہے ۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو تنگدستی کا شکار نہ ہو ۔ ان مسائل کے باعث ہر شخص پریشان ہے ہرفرد یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تنگدستی کے اس عذاب سے چھٹکارا مل جائے اور روزی میں برکت ہو جائے ۔ یادرکھئے! اگرہم اپنے مسائل اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور