بیان نمبر:29
روزی میں بَرَکت
تاجدار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’’ جسے کوئی سخت حاجت در پیش ہو تو اسے چاہیے کہ مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھے ۔ کیونکہ یہ مصائب و آلام کو دور کردیتا اور روزی میں برکت اور حاجات کو پورا کرتا ہے۔ ‘‘ (بستان الواعظین وریاض السامعین لابن جوزی، ص ۴۰۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! دیکھا آپ نے کہ دُرُودِپاک پڑھنے کی کس قدر برکات ہیں کہ فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مطابق دُرُود شریف روزی میں برکت کا سبب، حاجتوں کوپورا کرنے والا ، مُصیبتوں اور پریشانیوں کا دافع ہے ۔ آج اگرہم اپنے گرد و پیش پر طائرانہ نگاہ دوڑائیں تو ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگاکہ ہمارے معاشرے کا تقریباً ہر فرد ہی کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتارہے ، کوئی قرضدار ہے تو کوئی گھریلو ناچاقیوں کا شکار ، کوئی تنگدست ہے تو کوئی بے رُوزگار ، کوئی اَولاد کا طلبگار ہے تو کوئی نافرمان اَولاد کی وجہ سے بیزار ، الغَرَض ہر ایک کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے۔ ان میں سر فہرست، تنگ دستی اور رزق میں بے برکتی کا مسئلہ ہے ، شاید ہی کوئی گھرانا اس پریشانی سے محفوظ نظر