Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
283 - 645
 حُضُورمُفِیْضُ النُّور، شاہِ غَیُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مَسرور پاکر عرض کی : یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں  ایک ہزار دِرہم کا مقروض ہوں  ، اِس کی ادائیگی سے عاجِز ہوں  اور ڈرتا ہوں  کہ اگر اسی حالت میں  مرگیا تو بارِقرض (یعنی قرض کا بوجھ) میری گردن پر ہوگا ۔ رَحْمتِ عالَم ، نورِمُجسَّم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’محمود سُبُکْتَگِین کے پاس جاؤ وہ تمہا را قرض اُتار دے گا ۔ ‘‘میں  نے عرض کی: وہ کیسے اعتِماد کریں  گے؟ اگر اُن کیلئے کوئی نِشانی عنایت فرمادی جائے تو کرم بالائے کرم ہوگا ۔ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’جاکر اس سے کہو: اے محمود! تم رات کے اَوَّل حصّے میں  تیس ہزار بار دُرُود پڑھتے ہو اور پھر بیدا ر ہوکر رات کے آخِری حصّے میں  مزید تیس ہزار بار پڑھتے ہو ۔اِس نشانی کے بتانے سے  وہ تمہارا قرض اُتار دے گا۔‘‘ سلطان محمود عَلَیْہِِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُود نے جب شاہِ خیرُالْاَنامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا رَحْمتوں  بھرا پیغا م سنا تو رونے لگے اور تَصدیق کرتے ہوئے اُس کا قرض اُتار دیا اور ایک ہزار دِرْہم مزید پیش کئے۔ وُزَراء وغیرہ  مُتَعَجِّبہوکر عرض گزار ہوئے ۔ عا لیجاہ ! اِس شخص نے ایک ناممکن سی بات بتائی ہے اور آپ نے بھی اس کی تَصدیق فرمادی ؟ حالانکہ ہم آپ کی خدمت میں  حاضِر ہوتے ہیں  آپ نے کبھی اتنی تعداد میں  دُرُود شریف پڑھا ہی  نہیں   اور نہ ہی کوئی آدَمی رات