بنانا ، بیچنا ، خریدنا اور خریدوانا ، چَلانا اور چلوانا سب حرام ہے۔ ‘‘ (اسلامی زندگی، ص ۶۳)
اے خاصۂِ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا ہے اُمّت پہ تِری آکے عَجَب وَقْت پڑا ہے
فَریاد ہے ا ے کِشتی ٔاُمّت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگاہے
آہ!دین سے دُوری کے سبب آج مسلمانوں کی اکثریت اس مُتبرَّک و مُقدَّس رات کوبھی عام راتوں کی طرح غَفْلَت کی نَذرکر دیتی ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ اس مُبارک رات کا اِحتِرام کریں اورساری رات آتَش بازی میں گزارنے کے بجائے اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کریں اورزِیادہ سے زِیادہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ گرامی پر دُرُودِپاک کے گجرے نچھاور کرتے رہیں اور ہو سکے تو کوئی ایسا دُرُودِ پاک پڑھتے رہیں کہ جس کو کم تعدادمیں پڑھنے سے زیادہ دُرُود شریف پڑھنے کا ثواب ملتا ہو جیساکہ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ جو شخص دس ہزاری دُرُود شریف ایک بار پڑھ لے تو گویا اُس نے دس ہزار بار دُرُود شریف پڑھے ۔ آئیے حُصُولِ بَرَکت کے لئے آپ بھی دس ہزاری دُرُود شریف سُن لیجئے!
دس ہزاری دُرُود شریف
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ مَّااخْتَلَفَ الْمَلَوَانِ وَتَعَاقَبَ الْعَصْرَانِ وَکَرَّ الْجَدِیْدَانِ وَاسْتَقَلَّ الْفَرْ قَدَانِ وَبَلِّغْ رُوْ حَہٗ وَاَرْوَاحَ اَھْلِ بَیْتِہٖ مِنَّا التَّحِیَّۃَ وَالسَّلَامَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ عَلَیْہِ کَثِیْرًا