Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
280 - 645
آتش بازی کا مُوجد کون؟ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ شبِ بَراءَ ت جہنَّم کی آگ سے بَراءَ ت یعنی چُھٹکارا پانے کی رات ہے ۔ مگر آج کل کے مسلمانوں  کو نہ جانے کیا ہوگیا ہے کہ وہ آگ سے چُھٹکارا حاصِل کرنے کے بجائے پیسے خرچ کرکے خود اپنے لئے آگ یعنی آتَش بازَی کاسامان خریدتے ہیں  اور اِس طرح خُوب خُوب آتَش بازی چلا کر اِس مُقدَّس رات کا تَقدُّس پامال کرتے ہیں  ۔ مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں  : ’’آتَش بازی نَمرود بادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اس نے حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو آگ میں  ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تو اس کے آدمیوں  نے آگ کے اَنار بھر کر ان میں  آگ لگا کر حضرتِ خَلِیْلُ اللّٰہ عَلَیْہِ السَّلام کی طرف پھینکے۔  (اسلامی زندگی، ص۶۳ )
	ہائے افسوس! آتَش بازی کی ناپاک رَسم اب مسلمانوں  میں  زور پکڑتی جارہی ہے ، مسلمانوں  کا کروڑہا کروڑ روپیہ ہر سال آتَش بازی کی نَذْر ہوجاتا ہے اور آئے دِن یہ خبریں  آتی ہیں  کہ فُلاں  جگہ آتَش بازی سے اِتنے گھر جل گئے اور اِتنے آدَمی جُھلس کر مرگئے وغیرہ وغیرہ ۔ اِس میں  جان کا خطرہ، مال کی بربادی اور مکان میں  آگ لگنے کا اَندیشہ ہے ، پھر یہ کام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی بھی ہے ۔ حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : ’’آتَش بازی