اَہلِ بیت پر دُرُود نہ بھیجا جائے۔‘‘ (کنز العمال،کتاب الأذکار‚الباب‚الثامن فی الدعاء۱/ ۳۵، الجزء الثانی،حدیث: ۳۲۱۲)اے عزیز! دُعا طَائِر ہے اور دُرُود شَہْپَر، طائر بے پَر کیا اُڑ سکتاہے!
پرندے کے بازُو کا سب سے بڑا پَرکہ جس کے بغیر کوئی پرندہ پرواز نہیں کرسکتا اسے شَہْپر کہا جاتا ہے ۔ یعنی دُعا ایک پرندہ اور دُرُودِ پاک اسکے شَہْپر کی مانِنْد ہے لہٰذا ایسا پرندہ جس کا شَہْپر ہی نہ ہو وہ کیا اُڑے گا ایسے ہی وہ دُعا جو دُرودِ پاک سے خالی ہو کیونکر مَقبُول ہوسکتی ہے! (فضائلِ دُعا،ص۶۹)
لہٰذاہمیں بھی اپنی دُعا کی اِبتداواِنتہا میں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ طیبہ پر دُرُودپاک پڑھنے کی عادت بنالینی چاہیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسکی بَرَکت سے ہماری دُعائیں بارگاہِ الہٰی میں مَقبُول ہوں گی۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہتعالیٰ کے مَعصُوم فِرِشتے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رَوضۂ انور پر حاضری دے کردُرُدوسلام کا تُحفہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔چنانچہ
دَربارِ نبی میں فِرِشْتوں کی حاضِری
حضرتِسَیِّدُناابنِ وَہَب رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت ہے کہ حضرتِ