افسوس ! آج کل کے مُسلمانوں کو زیادہ تر حُصُولِ مال ہی کا شوق ہے۔ پہلے کے مَدَنی سوچ رکھنے والے مسلمان مُتَبرَّک اَیّام میں رَبُّ الانام عزَّوَجَلَّکی زِیادہ سے زِیادہ عبادت کرکے اُس کا قُرب حاصِل کرنے کی کوشِش کرتے تھے اور آج کل کے مُسلمان اِن مُبارک اَیّام کی قدرتک نہیں کرتے اور اپنا قیمتی وَقت فُضُولیات میں برباد کردیتے ہیں ۔ حالانکہ اس مہینے میں شبِ براء ت ایسی مُبارک رات ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس رات میں بے شُمار لوگوں کی بَخشِش فرما کر ا نہیں جہنَّم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔ چُنانچہ
نِصْف شعبان کی فَضیلت
اُمُّ المومنین حضرت ِ سَیِّدَتُناعائشہ صِدِّیقہ رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ بخشِش نشان ہے:’’ میرے پاس حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام آئے اور عرض کی کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس رات میں بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنَّم سے آزاد فرماتا ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس رات میں مُشْرِک ،بُغْض رکھنے والے اور قَطْع رِحمی کرنے والے اور تکبُّر کی وَجہ سے اپنے تہبند کو لٹکانے والے اور والدین کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا ۔‘‘( الترغیب والترہیب، کتاب الصوم،باب التر غیب فی صوم شعبان ،۲/۷۳،حدیث: ۱۱)