عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنے کا مہینہ ہے۔(غنیۃ الطّالبین،مجلس فی فضل شہر شعبان،۱/۳۴۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شعبان کی آمد پر اَسلاف کا معمول
صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کا معمول تھا کہ اس مُبارک مہینے کی آمد ہوتے ہی اپنا زِیادہ تر وَقت نیک اَعمال میں صرف کرتے ۔ چُنانچہ
حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ماہِ شَعْبانُ الْمُعَظَّم کا چاند نظر آتے ہی صَحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان تِلاوت ِقرآنِ پاک میں مشغول ہو جاتے ، اپنے اَموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ کمزور ومسکین لوگ ماہِ رَمَضَان المُبارَک کے روزوں کے لئے تیاری کرسکیں ، حُکّام قیدیوں کو طَلَب کرکے جس پر حَد (یعنی سزا) قائم کرنا ہوتی اُس پرحَد قائم کرتے بقیّہ کو آزاد کر دیتے، تاجِر اپنے قرضے اَدا کردیتے ، دوسروں سے اپنے قرضے وُصُول کر لیتے ۔ (یوں ماہ ِ رَمَضانُ الْمبارَک کا چاند نظر آنے سے قبل ہی اپنے آپ کو فارِغ کر لیتے) اور رَمَضان شریف کا چاند نظر آتے ہی غُسل کر کے (بعض حضرات پورے ماہ کے لئے ) اِعتِکاف میں بیٹھ جاتے ۔‘ ‘(غنیۃ الطالبین،مجلس فی فضل شہر شعبان،۱/ ۳۴۱)
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! پہلے کے مُسلمانوں کو عِبادت کا کِس قَدَر ذَوق تھا! مگر