بیان نمبر:28
حضرتِ علی رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ کی کرامت
ایک دفعہ یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس ایک سائل نے آکر سوال کیا ۔ اُنہوں نے اَزراہِ مَذاق کہا ، وہ علی کھڑا ہے وہ اَمیر آدمی ہے اس کے پاس جاؤ وہ تمہیں بہت کچھ دے گا ۔ حالانکہ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس وَقت خُودتہی دَست تھے ۔ سائل آپ کے پاس آیا اور آتے ہی سوال کیا ۔ آپ اپنی مومنانہ فَراست سے بھانپ گئے کہ یہ یہودیوں کی شَرارت ہے ۔ چُنانچہ آپ نے دس بار دُرُود پڑھ کر سائل کے ہاتھ پر دم کر دیا اور فرمایا ، اس مٹھی کو یہودیوں کے پاس جاکر کھولنا ۔ جب وہ یہودیوں کے پاس گیا تو اُنہوں نے پوچھا کہ کیا دیا ہے ؟ اِس پر اُس سائل نے ان کے سامنے ہتھیلی کھولی تو اس میں دس اَشرفیاں موجود دیکھ کر یہود دَم بخود رہ گئے اور کئی ایک یہودی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ کرامت دیکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ (راحۃ القلوب ،ص ۷۲، مفہوماً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شعبان میرا مہینہ ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یوں تو اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے جب کبھی ہمیں موقع ملے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کی ذات ِبابَرَکات پر دُرُود ِپاک کے پھول نچھاور کرتے ہی رہنا چاہئے اور پھر ماہ شَعْبانُ الْمُعَظَّم میں تو خاص طور پر کثرت کے