منبر ہے ،میں کئی دَرَجے اُوپر چڑھ گیا ،جب مڑکر دیکھا تو صرف وہ درجہ نظر آیا جس پر میرے پاؤ ں تھے باقی کچھ نظر نہ آیا ،میں نے دُرُود وسلام کا واسطہ دے کراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعاکی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے سلامتی کی راہ چلا۔ اتنے میں پُل صِراط کی مانند ایک سیاہ دھاگہ دکھائی دیا ، میں نے دل میں سوچاکہ ہو نہ ہو یہ پُل صِراط ہے جس نے مجھے آگھیراہے ، میرے پا س اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے فَضل وکرم اور رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودوسلام کے سوا کوئی عمل ایسا نہیں تھا جو اس کٹھن اور دُشوار گُزار منزل کو عُبُور کرنے میں کام آئے ۔
اتنے میں ہاتفِ غیبی سے یہ آواز سنائی دی کہ اگرتم اس منزل کو عُبُور کرلو تو اُس پار رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوانکی مُلاقات سے مشرَّف ہوگے ،یہ بات سن کرمیں پھولے نہ سمایا اور میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی جناب میں دُرُود و سلام کا وسیلہ پیش کیا تو دَفعۃً مجھے ایک نُورانی بادل نے اُٹھا کر رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قَدموں میں لاڈالا، کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار عَلَیْہِ السَّلام تشریف فرما ہیں اور آپ کے دائیں جانب حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ ، بائیں جانب حضرتِ سیِّدُنا فارُوقِ اعظم رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ، آپ کے عَقب میں حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ موجود ہیں اور حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ