Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
273 - 645
 نہیں   کیا ۔ (۹)پھر اس میں  دورانِ عاجزی دُعاکرنا اور گڑگڑانا ہے اور دُعا عبادت کا مغز ہے ۔ (۱۰)پھر اس میں  اِعتراف ہے کہ تمام اختیار اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہے اور یہ کہ نبیِّ کریم عَلَیْہِ السَّلام  اپنی تمام شان و شوکت اور مرتبے کے باوجود رَحمتِ خُداوَندی عَزَّوَجَلَّ کے مُحتاج ہیں  ۔پس یہ دس نیکیاں  ان کے سواہیں  جس کا شریعت نے ذِکرکیا ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے۔  (سعادۃ الدارین ،ص ۵۱ایضاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاجدارِ رسالت ،مَنبعِ جُود وسخاوت،قاسِمِ نِعمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف کی کثرت اپنے اوپر لازم کر لیجئے کہ دُرُودِپاک بیماریوں  سے شِفادیتا ہے اور مَصائب و آلام کو دُور کردیتا ہے اور بسااوقات درود پاک کے وسیلے سے بگڑی بھی بن جاتی ہے۔ چُنانچہ
اَنوکھا مِنْبر
	حضرت سَیِّدُنا احمد بن ثابِت علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الواحِد فرماتے ہیں  : ’’نبیِّ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنے سے مُتعلِّق جو مُشاہَدات مجھے کرائے گئے ان میں  سے ایک یہ بھی ہے کہ میں  نے خَواب میں  دیکھا کہ جنگل میں  ایک مِنْبر ہے جس پر میں  چڑھ بیٹھا، جب میں  اس کی سیڑھیوں  پر چڑھ گیا تومیں  نے زمین کی طرف نظر کی تو کیا دیکھتاہوں  کہ زمین سے دُورہَو امیں  ایک