Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
271 - 645
وباطن، ہر حال میں  رَبّ عَزَّوَجَلَّکے حکم کی مُخالفت سے بچتے رہنا اور دل سے اس کی طرف متوجہ رہنا اورہر حال میں  اسکے حکم پر راضی رہنا،بَہر صُورت اس کی تَقدیر پر صبر کرتے رہنا ، ان تمام اُمور میں  بَقدرِ اِستطاعت حُضُورِ قلب کے ساتھ بکثرت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرنا اور اس سے مَدد چاہنا۔جن اُمور کی میں  نے تجھے وَصیَّت کی ہے ان میں  وہ تیری مَدد کرے گا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاسب سے بڑھ کرمُفید ذِکر رسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حُضُورِقلب کے ساتھ دُرُود بھیجنا ہے ۔ بلاشُبہ یہ دُنیوِی اور اُخروی تمام مَقاصد کے حُصُول کا ضامن اور تمام مُشکلات کا حل ہے اور جو شخص اس پر عمل کرے گا وہی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاسب سے بڑھ کربَرگُزیدہ ہوگا۔          (سعاد ۃ الدارین،ص۱۰۹، ایضاً)
لُطفِ الٰہی کا ذریعہ
	حضرت سَیِّد احمد دَحلان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرحمٰن اپنی کتاب تَقریبُ الاصول میں  اِبن عَطا کایہ قول نَقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :’’جو شخص کثرت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا لُطف اس سے کبھی جدا  نہیں   ہوگا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کو کبھی غیر کا محتاج  نہیں رکھتا۔ ‘‘
ذِکْر کی اَفْضل ترین قِسم
علاَّمہ  نَبْہانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانیفرماتے ہیں  :’’دُرُود شریف سے ذِکرکی