Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
27 - 645
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ 318 صفحات پر مشتمل کتاب’’فضائلِ دعا‘‘صفحہ68پر والدِ اعلیٰ حضرت،رئیسُ الْمُتَکَلِّمِین حضرتِ علّامہ مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالمنّان دُعا کے آداب بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں ’’ اَوَّل وآخر نبی صلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ  وَسَلَّم اور اِن کے آل واَصحاب پر دُرُود بھیجے کہ دُرُود اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  مَقْبول ہے اور  پَرْوَرْدْگار کریم اس سے برتر کہ اَوَّل وآخر کو قبول فرمائے اور وسط (دَرمیان) کو رد کردے۔‘‘
زَمین وآسمان کے دَرمیان مُعلَّق دُعا
حضرت سَیِّدُنا عُمَربن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :’’اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،یعنی دُعا زمین وآسمان کے دَرمیان روکی جاتی ہے جب تک تُو اپنے نبیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمپر دُرُود نہ بھیجے بلند  نہیں   ہوپاتی۔‘‘ (ترمذی، کتاب الوتر، باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی النبی…الخ، ۲/ ۲۸،حدیث: ۴۸۶) اسکے حاشیے میں  میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلسُنَّت مُجدِّدِدین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن ارشاد فرماتے ہیں:بلکہ بَیہقی وابُو الشیخ سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے راوی،حُضُورسَیِّدُالْمُرسَلِین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   فرماتے ہیں:’’اَلدُّعَاءُ مَحْجُوْبٌ عَنِ اللّٰہِ حَتّٰی یُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَہْلِ بَیْتِہٖیعنی دُعا اللّٰہتعالیٰ سے حِجاب میں  ہے جب تک محمد  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے