حفاظت کا ذِہن بنایئے، توبہ پر اِسْتقامت پانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے اور ذِکر و دُرُود کی عادت بنالیجئے ۔
حضرتِ سیِّدُنا فارُوقِ اَعظم رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’عَلَیْکُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَاِنَّہٗ شِفَائٌ،تم پر ذِکرُاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ لازِم ہے ’’‘ کہ بیشک اِس میں شِفا ہے ‘‘، ’’وَاِیَّاکُمْ وَذِکْرَ النَّاسِ فَاِنَّہُ دَائٌ،ا ور لوگوں کے تذکروں (مَثَلاً غیبت) سے بچو کہ یہ بیماری ہے۔‘‘ (احیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان،الآفۃ الخامسۃعشرۃالغیبۃ،۳/۱۷۷ )
ہمارے بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِینکا یہ عالم تھا کہ وہ ذکر و دُرُود سے کسی بھی صورت میں غافل نہیں ہوتے تھے ۔جیسا کہ
قِیامت کی ذِلَّت و نُحُوست کا ایک سبب
امام شعرانی قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانینے سَلَف صالحین کے اَخلاق پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرِّیْن ‘‘ہے۔ اس میں فرماتے ہیں : ’’سَلَف صالحین کی عادات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکر اور رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنے سے کسی مجلس میں غافل نہیں ہوتے ۔ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے : ’’لا یَجْلِسُ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ یَذْکُرُوا اللّٰہَ فِیہِ وَلَمْ یُصَلُّوْا عَلٰی نَبِیِّہِ مُحَمَّدٍ، جو قوم کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں نہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرے اور نہ ہی اس کے