والے مسلمانوں کی بھاری اکثریّت اِس وَقت غیبت کی خوفناک آفت کی لپیٹ میں ہے، اَفسوس ! صد کروڑ اَفسوس! بے جابک بک کی عادت کے سبب آج کل ہماری کوئی مجلس (بیٹھک) عُمُوماً غیبت سے خالی نہیں ہوتی۔ بَہُت سارے پرہیز گار نظر آنے والے لوگ بھی بِلاتکلُّف غیبت سنتے،سناتے، مُسکراتے اور تائید میں سر ہِلاتے نظر آتے ہیں ، چُونکہ غیبت بَہُت زیادہ عام ہے اِ س لئے عُمُوماً کسی کی اِس طرف توجُّہ ہی نہیں ہوتی کہ غیبت کرنے والا نیک پرہیز گار نہیں بلکہ فاسِق وگُنہگار اور عذابِ نار کا حَقدار ہوتا ہے۔
غیبت کا اَنْجام
قرآن و حدیث اور اَقوالِ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین میں غیبت کی مُتعدَّد تباہ کاریاں بیان کی گئی جنہیں سن کر شاید خائفین کے بدن میں جُھر جھری کی لہر دوڑ جائے! جگر تھام کر چند ایک وعیدیں مُلاحَظہ فرمایئے۔ چنانچہ ٭غیبت اِیمان کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔ ٭ غیبت بُرے خاتمے کا سبب ہے ۔ ٭غیبت سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں ۔ ٭غیبت مُردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مُترادِف ہے ۔ ٭غیبتکرنے والا جہنَّم کا بندر ہو گا ۔٭نیز غیبتکرنے والا قیامت میں کتّے کی شکل میں اُٹھے گا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیبت کی عادت سے سچی توبہ کیجئے، زَبان کی