Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
264 - 645
 بیان کیا جاسکتاہے اور نہ شُمار کیا جاسکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے شخص کی زبان سے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُود غَفْلَت کے ساتھ نکل رہا ہے اس کا دل اَور بہت سی باتوں  سے بھرا پڑا ہے گویا اس کی زبان سے دُرُود شریف مَحض ایک عادت کی بنا پر نکل رہا ہے اسی لئے اسے کم اَجر ملا ۔ اور دوسرے کی زبان سے دُرُود شریف مَحَبَّت وتَعْظِیم کے ساتھ نکلا ہے ، مَحَبَّتاس لئے کہ وہ اپنے دل میں  نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی جَلالت و عَظْمَت کاتَصوُّر کرتا ہے اور یہ تَصوُّر بھی کرتا ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کائنات کے وجود میں  آنے کا سبب ہیں  اور ہر نور آپ ہی کے نور سے ہے اور یہ کہ آپ کائنات کے لئے رَحمت اور ہدایت ہیں  اور یہ کہ اگلوں  پچھلوں  سب کے لئے رحمت اور مخلوق کی ہدایت، آپ ہی کی طرف سے اور آپ ہی کے صَدقے سے ہے ۔ پس وہ آپ عَلَیْہِ السَّلام کی عزَّت وعَظْمَت کے پیشِ نظر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُود شریف پڑھتا ہے نہ کہ کسی اور وَجہ سے جس کا تعلُّق آدمی کے اپنے ذاتی مَفاد سے ہو۔‘‘(الابریز،الباب الثالث فی ذکرالظلام الذی یدخل علی ذوات العباد…الخ ،۱/۴۴۶)
	پس جب آدمی کی زبان سے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   پر دُرُود شریف نکلتاہے تو اس کا اَجر حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کے مرتبے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فَضل وکرم کے مطابق ہی ملتا ہے کیونکہ اس دُرُود شریف پڑھنے کا سبب اور اس پر آمادہ کرنے والی چیز آپعَلَیْہِ السَّلام کی یہی قَدرومنزلت ہے لہٰذا دُرُود