تُم کو تو غُلاموں سے ہے کچھ ایسی مَحَبَّت
ہے ترکِ ادب ورنہ کہیں ہم پہ فِدا ہو
(ذوقِ نعت ،ص۱۴۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جتنا گُڑ، اتنا میٹھا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رہے کہ جب بھی دُرُودِ پاک پڑھا جائے تو انتہائی شوقمَحَبَّت میں ڈوب کر بصد عَقیدت و اِخلاص پڑھا جائے کہ جس قَدر مَحَبَّتواِخلاص زیادہ ہوگا اَجرو ثواب بھی اسی قَدر زِیادہ ہوگا اور یقینا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اعمال کی قَبولیَّت کا دارومدار اِخلاص و تقویٰ پر ہے جیساکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے :
لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ (پ۱۷،الحج:۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان :اللّٰہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خُون ،ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔
حضرتسَیِّدُنا عبد العزیز دَبَّاغ عَلَیْہ رَحْمَۃُ ربِّ الْعِبادنے ’’اَلْاِبْرِیْز‘‘ کے باب سوئم میں ایک سلسلۂ کلام کے بعد فرمایا:’’اسی لئے تم دیکھو گے کہ دو شخص نَبِیِّ مُعَظَّم، رَسُولِ مُحتَرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھتے ہیں ، ایک کو تو تھوڑا سا اَجر ملتا ہے جبکہ دوسرے کو اتنا زِیادہ ثواب ملتا ہے جس کا نہ تو