Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
262 - 645
 کے معصوم فِرِشتے اس کا ذِکر آسمانوں  میں  کرتے ہیں  ۔ چنانچہ
	صاحبِ’’تَنْبیہُ الْاَنام‘‘ حضرت عَبدُالْجَلِیْل مَغْرَبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ القوی نے دُرُودِپاک کے فَضائل پر جو کِتاب لکھی ہے۔ اُس کے مُقدمہ میں  فرماتے ہیں  :’’ میں  نے اِس کے بے شُمار بَرَکات دیکھے اور بارہا سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت نصیب ہوئی۔ ‘‘اِسی ضِمن میں  فرماتے ہیں  کہ ایک بار خَواب میں  دیکھا کہ ماہِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطَّر پسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے غریب خانہ پر تشریف لائے ہیں  ، چہرئہ انور کی تابانی سے پورا گھر جگمگا رہا ہے ۔ میں  نے تین مرتبہ عرض کی ، ’’اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یَارَسُولَ اللّٰہ ‘‘یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !میں  آپ کے جوار میں  ہوں  اور آپ کی شَفاعت کا اُمید وار ہوں  نِیز میں  نے دیکھا کہ میرا ہمسایہ جو کہ فوت ہوچکا تھا مجھ سے کہہ رہا ہے:’’توحُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اُن خُدَّام میں  سے ہے جو ان کی مَدح سَرائی کرنے والے ہیں  ۔ ‘‘میں  نے اُس سے کہا کہ تجھے کیسے معلوم ہوا؟ اس پر اُس نے کہا: ’’ہاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! تیر ا ذِکر آسمانوں  میں  ہورہاتھا۔‘ ‘اور میں  نے دیکھا کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہماری گفتگو سُن کر مسکرارہے ہیں  ۔اتنے میں  میری آنکھ کھل گئی اور میں  نہایت ہشاش بَشَّاش تھا۔ (سعادۃ الدارین، الباب الرابع  فیماوردمن لطائف المرائی والحکایات…الخ،اللطیفۃ الثانیۃ والتسعون،ص۱۵۱)