وَسَلَّم) سے کہو کہ میں آپ کو آپ کی اُمَّت کے بارے میں عنقریب راضی کروں گا اور آپ کوگِراں خاطِر نہ ہونے دوں گا ، حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازِل ہوئی تو سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جب تک میرا ایک اُ مَّتِی بھی دوزخ میں رہے ، میں راضی نہ ہوں گا ۔ آیتِ کریمہ صاف دلالت کرتی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہی کرے گا جس میں رسول راضی ہوں ۔ ‘‘
ڈر تھاکہ عصیاں کی سزا اب ہوگی یا روزِ جزا
دی ان کی رَحمت نے صدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
(حدائقِ بخشش، ص۱۱۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو !
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا زِندگی بے حدمُختصر ہے ، جو وَقت مل گیا سو مل گیا، آئندہ وقت ملنے کی اُمّیدرکھنا دھوکا ہے ۔ کیا معلوم آئندہ لمحے ہم موت سے ہم آغوش ہوچکے ہوں ۔رحمت عالم ، نور مجسّم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :’’اِغْتَنِمْ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ،پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو!‘‘
شَبَابَکَ قَبْلَ ہِرَمِکَ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے۔
وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ صِحَّت کو بیماری سے پہلے۔
وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ مال داری کوتنگدستی سے پہلے۔
وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِک فُرصت کومَشغُولیَّت سے پہلے۔