الْمُبلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (مسجد میں ) تشریف فرما تھے کہ ایک آدَمی آیا، اس نے نماز پڑھی اور پھر ان کَلِمات سے دُعا مانگی : ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ ،یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رَحم فرما۔ ‘‘ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ عَجِلْتَ اَیُّہَاالْمُصَلِّیْ اے نمازی تُو نے جلدی کی۔ اِذَاصَلَّیْتَ فَقَعَدْتَّ فَاحْمِدِ اللّٰہَ بِمَا ہَُوَاَہْلُہٗ وَصَلِّ عَلَیَّ ثُمَّ ادْعُہٗ،جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو (پہلے ) اللّٰہتعالیٰ کی ایسی حَمد کر جواس کے لائق ہے اور مجھ پر دُرُودِپاک پڑھ، پھر اسکے بعد دُعا مانگ۔‘‘
راوی کا بیان ہے کہ اسکے بعدایک اور شخص نے نماز پڑھی ،پھر(فارِغ ہوکر ) اللّٰہتعالیٰ کی حَمدبیان کی اورحُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام پر دُرُودپاک پڑھا تو سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ اَیُّہَا الْمُصَلِّی اُدْعُ تُجَبْ،اے نمازی ! تُو دُعا مانگ ، قبول کی جائے گی۔‘‘ (ترمذی کتاب الدعوات، ‚باب‚ماجاء فی جامع الدعوات…لخ۵/۲۹۰ حدیث:۳۴۸۷)
بیان کردہ رِوایت سے معلوم ہوا کہ اگر دُعا مانگنے والا قَبُولیت کا طالب ہے تو اس پر لازم وضروری ہے کہ دُعا کے اَوَّل وآخر نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیمپر دُرُودپاک پڑھا کرے جیساکہ