الہَادِی خَزائنُ العرفان میں اس آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں : ’’اللّٰہتعالیٰ کا اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ وعدۂ کریمہ ان نعمتوں کو بھی شامل ہے جو آپ کو دُنیا میں عطا فرمائیں ۔ کمالِ نفس اور علومِ اَوَّلین و آخرین اور ظہورِ امر اور اِعلائے دِین اور وہ فُتوحات جو عہدِ مُبارک میں ہوئیں اور عہدِ صحابہ میں ہوئیں اور تاقیامت مسلمانوں کو ہوتی رہیں گی اور دعوت کا عام ہونا اور اسلام کا مَشارق و مَغارب میں پھیل جانا اور آپ کی اُمَّت کا بہترینِ اُمَم ہونا اور آپ کی وہ کرامات و کمالات جن کا اللّٰہ ہی عالِم ہے اور آخرت کی عزَّت و تکریم کو بھی شامل ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو شفاعتِ عامّہ و خاصّہ اور مقامِ محمود وغیرہ جلیل نعمتیں عطا فرمائیں ۔مسلم شریف کی حدیث میں ہے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دونوں دَستِ مُبارک اُٹھا کر اُمَّت کے حق میں رو رو کر دُعا فرمائی اور عرض کی اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جبریل عَلَیْہِ السَّلام کو حکم دیا کہ محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی خِدْمت میں جا کر دریافت کرو رونے کا کیا سبب ہے باوجود یہ کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے ، جبریل عَلَیْہِ السَّلام نے حسبِ حکم حاضِر ہو کر دریافت کیا تو سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ا نہیں تمام حال بتایا اور غمِ اُمَّت کا اِظہار فرمایا، جبریلِ امین نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ تیرے حبیب یہ فرماتے ہیں باوجود یہ کہ وہ خوب جاننے والا ہے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جبریل عَلَیْہِ السَّلام کو حکم دیا جاؤ اور میرے حبیب ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ