Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
258 - 645
پوچھا جائے کہ ساری مَخلُوق کی نیکیاں  تیرے نامۂ اعمال میں  ہوں  تجھے یہ پسند ہے یا یہ کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک خاص رَحمت تجھ پر نازل ہوجائے تو یقینا وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ایک خاص رَحمت کو پسند کرے گا۔ اور پھر یہ فَضیلت تو ایک بار دُرُودِ پاک پڑھنے والے کو حاصل ہوگی کہ اس پر اللّٰہ تَبارَکَ وَ تَعالٰیکی سلامتی اور دس رَحمتوں  کا نُزُول ہوگا تواس بندۂ مؤمن کے کیا کہنے جو آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتاہوگا ۔ 
مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان ’’مراٰۃ المناجیح ‘‘ میں  اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں  :’’ رَبّ کے سلام بھیجنے سے مُراد یاتو بذریعہ ملائکہ اسے سَلام کہلوانا ہے یاآفتوں  اورمُصیبتوں  سے سلامت رکھنا۔ حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کویہ خُوشخبری اس لیے دی گئی کہ آپ کو اپنی اُمَّت کی راحت سے بہت خُوشی ہوتی ہی جیسے کہ اپنی اُمَّت کی تکلیف سے غم ہوتا ہے ۔ مذکورہ حدیث اس آیت کی مؤید ہے ۔‘‘
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ﴿۵﴾ (پ ۳۰، الضحیٰ:۵)
ترجمۂ کنز الایمان :اور بے شک قریب ہے کہ تمہارارَبّ تمہیں  اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔(مراٰۃ ،۲/۱۰۲)
	حضرتِ صدر الْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ