Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
257 - 645
بیان نمبر:26
خُدا چاہتا ہے رضائے محمد
	حضرت سَیِّدُناابوطلحہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک دن رَحْمَۃُ لِّلْعٰلمین، شَفِیْعُ الْمُذْنِبین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تشریف لائے اور حالت یہ تھی کہ خُوشی کے آثار آپ عَلَیْہِ السَّلام کے چہرۂ والضُّحٰی سے عَیاں  تھے، فرمایا:’’جبرئیل میرے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے، آپ کا رَبّ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:’’ اَمَا یُرْضِیْکَ یَا مُحَمَّدُاَنْ لَّا یُصَلِّیَ عَلَیْکَ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِکَ اِلَّا صَلَّیْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا،اے محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! کیا تم اس بات پر راضی  نہیں   کہ آپ کا جو بھی اُ مَّتِی آپ پر ایک بار دُرُودِ پاک بھیجے تو میں  اس پر دس بار رَحمت بھیجوں  ‘‘  ’’وَلَا یُسَلِّمَ عَلَیْکَ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِکَ اِلَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا، اور اگر وہ آپ پر ایک بار سلام بھیجے تو میں  اس پر دس بار سلام بھیجوں۔‘‘(مشکاۃ،کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی النبی وفضلہا،۱/۱۸۹،حدیث:۹۲۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کس قَدر خُوش بَخت ہے وہ شخص جو حُضُور عَلَیْہِ السَّلامکی بارگاہ میں  دُرُودِ پاک پڑھ کرخود کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی دس رَحمتوں  کا سزاوار بنالیتا ہے حالانکہ اَوَّلین و آخرین کی اِنتہائی تَمنَّا تو یہ ہوتی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک خاص رَحمت ہی ان کو حاصل ہوجائے تو زَہے نصیب ،بلکہ اگر عقلمند سے