اس کے سبب تمہارا رونا دھونا طویل ہو جائے اور تم ہمیشہ غمگین رہو۔‘‘ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں : تمہیں اچّھے خاتمے کی تیاری میں مشغول رہنا چاہئے۔ ہمیشہ ذکرُاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمیں لگے رہو، دل سے دُنیا کی مَحَبَّت نکال دو، گُناہوں سے اپنے اَعضاء بلکہ دل کی بھی حِفاظت کرو، جس قَدر ممکن ہو بُرے لوگوں کو دیکھنے سے بھی بچو کہ اس سے بھی دل پر اثر پڑتا ہے اورتُمہارا ذِہن اُس طرف مائل ہو سکتا ہے۔ (احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجائ، بیان معنی سوء الخاتمۃ،۴ /۲۱۹، مُلخصاً )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطافرمااوراس کی بَرَکت سے ہمیں موت کی سختیوں سے نجات ، ایمان پر خاتمہ اور وَقتِ نزع اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حَسین جلوے دکھا ۔
نزع کے وَقت مجھے جلوۂ محبوب دکھا
تیراکیا جائے گا میں شاد مروں گا یارَبّ!
(وسائلِ بخشش ،ص۹۰)
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
فرمانِ مصطفٰی
ہر مرض کی دوا ہوتی ہے اور گناہوں کی دوا استغفار کرنا ہے۔ (کنز العمال،۱/۲۴۲، حدیث:۶ ۲۰۸)