پیوسْت ہو جائے پھر کوئی کھینچنے والا اُس شاخ کوزور سے کھینچے تو وہ( کانٹے دار ٹہنی) کچھ( گوشت کے ریشے وغیرہ)ساتھ لے آئے اور کچھ باقی چھوڑ دے۔‘‘ (مکاشفۃالقلوب، ص۱۶۸)
تکالیفِ موت کا ایک قطرہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی بے حد تشویشناک مُعامَلہ ہے۔ بندہ جب بُخار یا دَردِ سر وغیرہ میں مبتلاہوتاہے تو اُس سے کسی بات میں فیصلہ کرنا دُشوار ہوجاتا ہے۔ پھر نزع کی تکالیف توبہُت ہی زیادہ ہوتی ہیں ۔ ’’شرحُ ا لصُّدور‘‘ میں ہے،’’ اگر موت کی تکالیف کا ایک قطرہ تمام آسمان وزمین میں رہنے والوں پر ٹپکا دیا جائے تو سب کے سب ہَلاک ہوجائیں ۔‘‘(شرح الصدور،باب من دنا اجلہ وکیفیۃ الموت وشدتہ،ص۳۲ )
سُوئے خاتمہ سے امن چاہتے ہو تو!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تشویش ...... تشویش ...... نہایت ہی سخت تشویش کی بات ہے، ہم نہیں جانتے کہ ہمارے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خُفْیہ تَدبیر کیا ہے، نہ معلوم ہمارا خاتمہ کیسا ہوگا! حُجّۃُ الْاسلام حضرت سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالی کا فرمانِ عالی ہے:’’ بُرے خاتمے سے اَمن چاہتے ہو تو اپنی ساری زِندگی اللّٰہُ ربُّ الْعزّتعزَّوجلَّ کی اِطاعت میں بسر کرو اور ہر ہر گُناہ سے بچو،ضَروری ہے کہ تم پر عارِفین جیسا خوف غالب رہے حتّٰی کہ