بے وَفا دُنیا پہ مت کر اِعتبار تو اچانک موت کا ہو گا شکار
موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ جان جا کر ہی رہے گی یادرکھ
جب فِرِشتہ موت کا چھا جائے گا پھر بچا کوئی نہ تجھ کو پائے گا
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت میں ہمارے لئے نصیحت کے بے شُمار مَدنی پھول ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جانکَنی کے کڑے اور کٹھن وقت میں دُرُودِ پاک کی کثرت ہماری مشکلوں کو آسان کردے گی اور اس کی بَرَکت سے ہمیں موت کی سختیوں سے نَجات حاصل ہوجائیگی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان کی رُوح اس کے جسم سے جُدا ہورہی ہوتی ہے تو وہ بڑی آزمائش کا وَقت ہوتا ہے۔ چنانچہ
موت کانٹے دار شاخ کی مانِنْد ہے
امیرُالمؤمنینحضرت سَیِّدُنا عُمر فارُوقِ اَعظم رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے حضرت سَیِّدُنا کعبُ الْاحْبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہسے فرمایا : ’’اے کعبرَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ !ہمیں موت کے بارے میں بتاؤ۔‘‘ حضرت سَیِّدُناکعبُ الْاحْباررَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ موت اُس ٹہنی کی مانند ہے جس میں کثیر کانٹے ہوں اور اُسے کسی شخْص کے پیٹ میں داخل کیا جائے اور جب ہر کانٹا ایک ایک رگ میں