واسطہ دیتا ہوں کہ آپ اس پہلی صُورت میں آجائیں ، میں مانتا ہوں کہ آپ واقعی حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلام ہیں ۔
پھر میں نے عرض کی : مجھے کوئی مُفیدنَصیحت فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’دُنیا کو چھوڑ دے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل ہوگی اور جو تیرے پاس ہے اسے خَیر باد کہہ دے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی مَحَبَّت پالے گا۔‘‘ پھر میں نے عرض کی : میں حضرتِ سَیِّدُنا عزرائیل عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارت کرنا چاہتا ہوں ۔ فوراً ایک صاحب اُٹھے ،وہ بھی نہایت حسین تھے ،فرمایا: میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ عزرائیل ہوں ۔ حسبِ سابق میں نے ان سے بھی دُعائے خیر کی درخواست کی، آپ علیہ السَّلام نے دُعا فرمائی ۔ آخر میں میں نے حضرتِ سَیِّدُنا عزرائیل عَلَیْہِ السَّلام سے عرض کی:’’ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا واسطہ دے کر التجا کرتا ہوں کہ آپ میری جان نکالتے وَقت مجھ پر نرمی فرمائیں ۔‘‘ فرمایا: ’’رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھا کرو۔‘‘ میں نے نَصیحت طلب کی تو فرمایا :’’لذَّتوں کو توڑنے والی، باپوں اور ماؤں کوقتل کرنے والی ،بیٹوں اور بیٹیوں کو (ماں ، باپ) سے جدا کرنے والی اورخالقُ السَّموات والارض کے ماسوا کی رُوحوں کو کھینچ لینے والی موت کو یا د رکھا کرو!‘‘ اس پرمیں بیدار ہوگیا۔ (سعادۃ الدارین،الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایات،اللطیفۃ السادسۃ، ص۱۲۴، ملخصاً)