نَصیحت فرمائیں جس سے مجھے فائدہ ہو تو اُنہوں نے فُضُول و بے کارکام سے بچے رہنے اور اَمانت کو اَدا کرنے کی نَصیحت فرمائی ۔ ‘‘
پھر میں نے حضرتِ سَیِّدُنامیکائیل عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارت کی خَواہش ظاہر کی تو ان بیٹھے ہوئے حضرات میں سے ایک بولے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ میکائیل ہوں ۔ میں ان کے پاس حاضر ہوا اوردُعا اورنَصیحت کی دَرخواست کی ، اُنھوں نے دُعادی اور فرمایا:’’تم پرعَدل واِنصاف اوراِیفائے عہد (وَعدے کی پاسداری ) لازم ہے۔ ‘‘
پھر میں نے سوال کیا کہ میں حضرتِ سَیِّدُنااسرافیل عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارت کرنا چاہتا ہوں ، تو ان میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اورکہا: میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا بندہ اسرافیل ہوں ۔ ان جیسا پرنور چہرہ بھی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، میں نے ان سے بھی دُعائے خیر طلب کی، اُنھوں نے بھی دُعا فرمائی ۔ پھردل میں خیال آیا کہ نجانے یہ واقعی فِرِشتے ہیں یا میں غلطی پر ہوں ؟ اور یہ حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلام ہو بھی کیسے سکتے ہیں ؟ جبکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنااسرافیل عَلَیْہِ السَّلام کا سر عرش تک ہے اور پاؤں ساتویں زمین کے نیچے ہیں ، یہ خیال آتے ہی دیکھا کہ حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلام اُٹھ کھڑے ہوئے سر آسمان تک بلند ہوگیا اور پاؤں زمین کے نیچے چلے گئے۔ تو ان کیمَحَبَّت میرے دل میں مزید بیٹھ گئی پھر میں نے عرض کی:تمام نبیوں کا