چہرے ہی سے عَیاں تھے ۔ ‘‘
میں نے کہا: ’’تجھے تمام نبیوں کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تیرا نام ونسب کیا ہے؟ ‘‘یہ سن کر اس نے کہا:’’ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! کے بندے میرا نام رومان ہے اور میں رَحمن کے مَلائکہ میں سے ہوں ۔‘‘اس پر میں نے سوال کیا : ’’تو پھر آپ آدمیوں میں کیوں آئے ہیں ؟ ‘‘فرمایا:’’ یہ سب ،آدمی نہیں بلکہ فِرِشتے ہیں ۔‘‘ میں نے کہا :’’میں آپ کی صُحبت میں رہنا چاہتا ہوں ۔‘‘، تو اس فِرِشتے نے کہا:’’ نہیں ! آپ ایک گھڑی بھی میرے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔‘‘
میں نے عرض کی:’’ حُضُور! یہ تو فرمائیں کہ ان فِرِشتوں میں کون کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’ان میں حضرتِ سَیِّدُناجبرائیل عَلَیْہِ السَّلام، حضرتِ سَیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلام، حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلام اور حضرتِ سَیِّدُنا عزرائیل عَلَیْہِ السَّلام ہیں ۔‘‘ میں نے تمام نبیوں کا واسطہ دے کر حضرتِ سیِّدنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلامکی زِیارت کی خَواہش ظاہر کی جو ہمارے آقا حبیبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مَحَبَّت کرنے والے ہیں ۔ اچانک محراب کے پاس سے آواز آئی : ’’میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ جبرائیلہوں ۔‘‘ میری آنکھ نے پہلے کبھی ایسا حَسین وجمیل نہ دیکھا تھا۔ میں ان کے پاس حاضِر ہوا، سلام عرض کیا اور ان سے دُعائے خَیرکی دَرخواست کی ۔ آپ نے دُعا فرمائی، تب میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا واسطہ دے کر عرض کی کہ آپ مجھے کوئی