ان سے پُوچھا کہ موت کی کڑواہٹ کیسی محسوس کر رہے ہو ؟اُنہوں نے کہا کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں ہورہااس لئے کہ میں نے عُلمائے کرام سے سناہے کہ جو شخص کثرت سے دُرُود شریف پڑھتا ہے وہ موت کی تَلخی سے مَحفُوظ رہتا ہے۔ (فضائل دُرودشریف،ص۵۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ القوی اپنی مایہ ناز کتاب جذبُ القُلُوب میں ارشاد فرماتے ہیں :’’ دُرُود شریف پڑھنے سے قِیامت کی ہولناکیوں سے نَجات حاصل ہوتی ہے،سَکراتِ موت میں آسانی ہوتی ہے۔‘‘ (جذبُ لقلوب، ص۲۲۹) چنانچہ اس ضِمن میں ایک حکایت سنئے اور جُھوم اُٹھئے۔
نصیحتوں کے پُھول
حضرتِ سیِّدنا شیخ احمد بن ثابت مَغْربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوی فرماتے ہیں : ’’ایک دن میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے قِبلہ رُخ دُرُودِ پاک کے موضُوع پر مضمون کو ترتیب دے رہا تھا۔ قلم میرے ہاتھ میں تھا اورتَختی میری گود میں کہ طبیعت بوجھل ہونے لگی، دَریں اَثنا مجھے نیند نے آلیا۔ میں نے خَواب میں دیکھا کہ میں ایک سُنسان جگہ پرہوں جہاں کوئی عمارت نہیں کچھ لوگ جامع مسجد کے دروازے پر موجود ہیں اور باقی مسجد کے اندر، میں اندر گیا اوران کے درمیان بیٹھ گیا، وہاں میں نے ایک حَسین و جمیل نوجوان کودیکھا نیک بَختی کے آثار اس کے