Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
249 - 645
 شے حجاب  نہیں   رہتی ۔ لہٰذا اس حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ تم جہاں  بھی ہو تمہارے دُرُود کی آواز مجھ تک پہنچتی ہے جب آج بجلی کی طاقت سے وارلیس اور ریڈیو کے ذَرِیعے لاکھوں  میل کی آواز سن لی جاتی ہے تو اگر طاقتِ نَبُوَّت سے دُرُود کی آواز سن لی جائے تو کیا بعید ہے ۔ یعقوب عَلَیْہِ السَّلام نے صدہا میل سے پیراہنِ یوسف عَلَیْہِ السَّلام(یعنی ان کی قمیص) کی خُوشبو پائی۔ سلیمان عَلَیْہِ السَّلام نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سنی حالانکہ آج تک کوئی طاقت چیونٹی کی آواز نہ سنا سکی تو ہمارے حُضُوربھی دُرُودخوانوں کی آواز ضَرور سنتے ہیں  ۔‘‘ (مراٰۃ،۲ /۱۰۱، ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جو خُوش نصیب لوگ نَبِیِّ مُعَظَّم ،رَسُولِ مُحتَرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودو سلام پڑھنااپنی عادت بنالیتے ہیں  ، زِندَگی بھر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی عَظْمَت ومَحَبَّت دل میں  بٹھاتے ہیں  جب وہ اہلِ دُرُود اور اَہلِمَحَبَّتاس دُنیائے فانی سے عالمِ جاوِدانی کی طرف سفر کرتے ہیں  تو ان پر کیسا کرم ہوتا ہے،آئیے اس کی ایک جھلک مُلاحَظہ فرمائیے ۔
موت کی تَلْخِی سے مَحفُوظ 
	ایک صاحب کسی بیمار کے پاس تشریف لے گئے(ان پر نَزع کاعالم طاری تھا )