بیان نمبر:25
گھروں کو قَبْرِسْتان مت بناؤ
حضرتِ سَیِّدُناابُوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن، شفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے: ’’لَا تَجْعَلُوا بُیُوْتَکُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِی عِیْدًا،اپنے گھروں کو قَبرستان مت بناؤ اور نہ ہی میری قَبر کو عید بناؤ ‘‘ ’’وَصَلُّوا عَلَیَّ فَاِنَّ صَلَا تَکُم تَبْلُغُنِی حَیْثُ کُنْتُمْْ‘‘ اور مجھ پر دُرُود ِپاک پڑھاکرو، بے شک تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے چاہے تم جہاں بھی ہو۔‘‘(ابو داود، کتاب المناسک ،باب زیاۃ القبور،۲ /۵ا۳،حدیث۲ ۴ ۰ ۲)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان ’’مراٰۃُ المناجیح ‘‘میں اس حدیث پاک کے تَحت فرماتے ہیں :’’اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکر سے خالی مت رکھوبلکہ فَرائض مسجد وں میں اَدا کرو اورنَوافل گھر میں ۔ اور جیسے عیدگاہ میں سال میں صرف دوبار جاتے ہیں ایسے میری مَزار پر نہ آؤ بلکہ اکثر حاضِری دیا کرویا جیسے عید کے دن کھیل کود کے لیے میلوں میں جاتے ہیں ایسے تم ہمارے رَوضہ پر بے اَدَبی سے نہ آیا کرو بلکہ بااَدَب رہا کرو۔‘‘
مزیدفرماتے ہیں :’’ کہ اَرواحِ قُدسیہ بدن سے نکل کر مَلائکہ کی طرح ہوجاتی ہیں کہ وہ سارے عالَم کو کفِّ دَسْت کی طرح دیکھتی ہیں اوران کے لیے کوئی