Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
246 - 645
 جب دھونے کی ضَرورت پڑتی ہے ہم اِس کو اِسی طرح آگ میں  ڈال دیتے ہیں  ۔‘‘ (الخصائص الکبری،باب الآیۃ فی النار،۲/ ۱۳۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عارِفِ کامِل حضرتِ سیِّدُنا مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحمۃُ القَیوم’’مثنوی شریف ‘‘میں  اِس واقِعۂ مبارَک کو لکھنے کے بعد فرماتے ہیں  :
اے دلِ تَرسِنْدہ اَ ز نارو عذاب		چُوں  جَما د ے راچُناں  تشریف داد
با چُناں  دَست و لَبے کُن اِ قْترَاب	 جانِ عا شِق را چَہا خَو اہد کَشاد
(یعنی اے وہ دل جس کو عذابِ نار کا ڈر ہے ، ان پیارے پیارے ہونٹوں  اور مُقدَّس ہاتھوں  سے نَزدیکی کیوں   نہیں   حاصِل کر لیتا جنہوں  نے بے جان چیز تک کو ایسی فَضلیت و بُزُرگی عطا فرمائی کہ وہ آگ میں  نہ جلے ، تو ان کے جو عاشِقِ زار ہیں  ان پر عذابِ نار کیوں  نہ حرام ہو!) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُرُودِ پاک پڑھنا عَظیم ترین سعادت اور اَفْضَل ترین اَعمال میں  سے ہے یہ عملاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  اس قَدر محبوب ہے کہ جو اس کا عامل بن جاتا ہے تو اس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رَحمتوں  کی بارش چَھماچَھم برسنا شُروع ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ
	حضرت سَیِّدُنا عبدالوہَّاب شَعرانیقُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانی’’طبقات ‘‘ میں  سَیِّدی ابُوالمَواہِب شاذلی علیہ رَحمۃ  اللّٰہِ الْوَلیکا قول بیان فرماتے ہیں  : ’’میں