آگ نے کچھ اثرنہ کیا
مروی ہے کہ ایک بار حضرت سَیِّدتُنافاطمہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا تنور میں روٹیاں لگارہی تھیں کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے اور حضرتِ فاطمہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا کے آٹے کی کچھ روٹیاں بناکر تَنُّور میں لگائیں تو ان روٹیوں پر آگ نے کچھ اثرنہ کیا حتّٰی کہ ان کی رَطُوبت بھی خشک نہ ہوئی اور جس طرح لگائی تھیں اسی طرح رہیں ۔ (کوثر الخیرات، ص ۲۷۷)
آگ سے دُھلنے والا رومال
اسی طرح حضرتِ سیِّدُنا عُباّد بن عبدُ الصَّمد رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : کہ ہم ایک روز حضرتِ سیِّدُنا انَس بن مالِک رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہکے دولت خانے پرحاضِر ہوئے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کا حکم پا کر کنیزنے دَسترخوان بچھایا۔ فرمایا : ’’رومال بھی لاؤ ۔‘‘ ،وہ ایک رومال لے آئی جسے دھونے کی ضَرورت تھی۔ حکم دیا: اِس کو تَنُّور میں ڈال دو! اُس نے بھڑکتے تَنُّور میں ڈال دیا ! تھوڑی دیر کے بعد جب اُسے آگ سے نکالا گیا تو وہ ایسا سفید تھا جیسا کہ دُودھ ۔ ہم نے حیران ہوکر عرض کی: اِس میں کیا راز ہے؟ حضرتِ سیِّدُنا انَس رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ یہ وہ رومال ہے جس سے حُضُور سراپا نور ،فیض گَنجور، شاہِ غَیُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنا رُخِ پُر نور صاف فرمایا کرتے تھے۔