عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ‘‘ حضرت ملاَّ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْبَارینے شرح شفا میں لکھا: ’’ خالی مکان میں سیدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سلام عرض کرنے کی وَجہ یہ ہے کہ اَہلِ اسلام کے گھروں میں رُوحِ اَقدس جَلوہ فرما ہوتی ہے ۔ ‘‘
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سَلام کو عام کرو سَلامتی پاؤ گے
میٹھے میٹھے اسلا می بھا ئیو !احادیثِ مبارکہ میں بھی سلام کی بڑی اَہَمِّیَّت بیان کی گئی ہے۔چُنانچہ حضرت ِ سَیِّدُنا براء بن عازِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’اَفْشُواالسَّلَامَ تَسْلَمُوْا،سلام کو عام کرو سلامتی پالو گے ۔‘‘(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، باب افشاء السلام۔۔۔الخ،۱ / ۳۵۷،حدیث:۴۹۱)
مَحَبَّت پیداکرنے والا عَمل
ایک اور حدیث پاک میں اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’کہ تم میں پچھلی اُمّتوں کی بیماریاں بُغْض اورحَسد پھیل جائیں گی ‘‘،’’وَالْبَغْضَاءُ وَہِیَ الْحَالِقَۃُ،لَیْسَ حَالِقَۃُ الشَّعْرِ لٰکِنْ حَالِقَۃُ الدِّیْنِ، اور بُغْض ایک اُسترہ ہے جوبالوں کو نہیں بلکہ دین کو کاٹ دیتا ہے‘‘اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قُدرت میں محمد کی جان ہے ! ’’لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ حَتّٰی تُؤْمِنُوْا ،تم اس وقت تک جَنَّت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ ‘‘’’وَ لَا تُؤْمِنُوْاحَتّٰی