ہے جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔
فَاِذَا دَخَلْتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنۡدِ اللہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ؕ(پ۱۸، النور:۶۱)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو ملتے وقت کی اچھی دُعا اللّٰہ کے پاس سے مبارک پاکیزہ۔
گھر میں داخل ہونے کے آداب
حضرتِ صدر ا لاْ فاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم ُالدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الہادی نے خَزائنُ العرفانمیں اس آیتِ کریمہ کے تَحت چند مسائل بیان کیے ہیں ج نہیں توَجُّہ سے سن کرعمل کی نِیَّت بھی کرلیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ثواب کا ڈھیروں خزانہ ہاتھ آئے گا ۔ چُنانچہ آپ فرماتے ہیں : ’’جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے اَہل(گھروالوں )کو سلام کرے اور ان لوگوں کو جو مکان میں ہوں بشرطیکہ ان کے دِین میں خَلَل نہ ہو۔ ‘‘اگر خالی مکان میں داخل ہو جہاں کوئی نہیں ہے تو کہے ’’اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰـی وَبَرَکَاتُہ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰہ الصَّالِحِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الْبَیْتِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعالٰی وَ بَرَکَاتُہ‘‘حضرت سَیِّدُناابنِ عباس رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہمَا نے فرمایا کہ مکان سے یہاں مسجدیں مُراد ہیں ۔‘‘ اِمام نَخعی نے کہا کہ جب مسجد میں کوئی نہ ہو تو کہے ’’اَلسَّلَامُ