بہتر وَبَرَکَاتُہ، شامل کرنا اور اس پر زِیادَت نہیں ۔ پھرسلام کرنے والے نے جتنے اَلفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اِعادہ تو ضَرور ہے اور اَفضل یہ ہے کہ جواب میں زِیادہ کہے۔ اس نے اَلسَّلامُ عَلَیْکُمکہا تو یہ وَعَلَیکُمُ السَّلام وَرَحمَۃُ اللّٰہ کہے۔ اور اگر اس نے السَّلامُ عَلَیْکُم وَ رَحْمَۃُ اللّٰہ کہا تو یہ وَعَلَیکُمُ السَّلام وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکاتُہٗ کہے اور اگر اس نے وَبَرَکاتُہٗ، تک کہا تویہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زِیادَت نہیں ۔ ‘‘
جوابِ سلام کے وقت خلافِ سُنَّت اَلفاظ
میٹھے میٹھے اسلا می بھا ئیو ! بد قسمتی سے آج کل ہمارے مُعاشرے سے یہ سُنَّت ختم ہوتی نظرآرہی ہے۔ بدقسمتی سے ہم مُلاقات کے وقت اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ سے اِبتدا کرنے کے بجائے ’’آداب عرض‘‘ کیا حال ہے ؟’’ مِزاج شریف ‘‘ صُبح بخیر‘‘،’’ شام بخیر ‘‘وغیرہ وغیرہ عجیب وغریب کلمات سے گُفْتگُوکا آغاز کرتے ہیں اسی طرح رُخصت ہوتے وقت بھی ’’خُدا حافظ‘‘’’گڈبائی‘‘ ’’ٹاٹا ‘‘ وغیرہ کہہ دیتے ہیں جوکہ خلافِ سُنَّت ہے ،ہاں رُخصت ہوتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بعد اگر خدا حافظ کہہ دیں تو حرج نہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جب بھی باہم ایک دوسرے سے مُلاقات کریں ، اپنے گھر میں داخل ہوں یا کسی عزیز و اَقارِب کے گھر جائیں تو سَلام کیا کریں کہ قرآنِ پاک بھی ہمیں یہی دَرس دیتا