Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
240 - 645
 اوردُرُودِپاک پڑھنے سے ہمارے دل میں  حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مَحَبَّت پیدا ہوتی ہے اور یہ ہمارے گُناہوں  کی بَخشِش کا ذَرَیعہ بھی ہے ۔ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !بیان کردہ حدیثِ مُبارک میں  سَلام ومُصافَحہ کا ذِکر ہے اور یہ ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی پیاریسُنَّت بھی ہے لہٰذا ہمیں  بھی اپنی یہ عادت بنالینی چاہیے کہ ہم جب بھی کسی سے مُلاقات کریں  تو سلام کی سُنَّتوں  اور آداب کا خیال رکھتے ہوئے سلام و مُصافَحہ کیا کریں  اورحُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُودِپاک بھی پڑھ لیا کریں  ۔ 
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ہمیں  قرآنِ پاک میں  ایک دوسرے کو سلام کرنے کی ترغیب دلائی ہے چُنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے : 
وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ اَوْ رُدُّوۡہَا ؕ (پ ۵، النساء:۸۶) 
ترجمہ کنز الایمان:’’اور جب تمہیں  کوئی کسی لَفْظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہترلَفْظ جواب میں  کہو یا وہی کہہ دو۔‘‘
جوابِ سَلام کا اَفضل طریقہ
میرے آقااعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنَّت ،مُجدِّدِدین ومِلَّت،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 22 صَفْحَہ 409 پر ارشاد فرماتے ہیں  :’’کم از کم اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم اوراس سے بہتروَرَحْمَۃُ اللّٰہ ملانا اور سب سے