عَنِ الْمُنْکَرِ، صَدَقہ ، حُسنِ اَخلاق،سَخاوت ،خَوف ِخداعَزَّوَجَلَّمیں رونا،حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنا نیز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ حُسنِ ظَن وغیرہ وغیرہ نیکیوں کے سَبَب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مُعَذَّبِین(یعنی جو لوگ عذاب میں مُبتَلا تھے اُن) پر کرم فرمادیا اور اُ نہیں عِتاب و عَذاب سے رِہائی مِل گئی ۔ بَہَرحال یہ اُس کے فَضْل وکرم کے مُعامَلات ہیں ۔ وہ مالِک ومُختار عَزَّوَجَلَّہے۔ جِسے چاہے بَخش دے، جسے چاہے عذاب کرے،یہ سب اُس کا عَدْل ہی عَدْل ہے۔ جہاں وہ کسی ایک نیکی سے خُوش ہو کر اپنی رَحمت سے بَخش دیتا ہے وَہیں کسی ایک گُناہ پر جب وہ ناراض ہوجاتا ہے تو اُس کا قَہر وغضب جوش پر آجاتا ہے اور پھر اُس کی گرِفت نِہایت ہی سَخت ہوتی ہے ۔ جیسا کہ ابھی گزَشتہ طویل حدیث کے آخِر میں چُغُل خَوروں اور دوسروں پر گناہ کی تُہمت باندھنے والوں کا اَنجام بھی ہمارے پیارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مُلاحَظہ فرماکر ہمیں بتا کر مُتَنَبِِّہ(یعنی خبردار ) کیالہٰذا عقل مندوُہی ہے کہ بظاہِر کوئی چھوٹی سی بھی نیکی ہو اُسے تَرک نہ کرے کہ ہوسکتا ہے یِہی نیکی نَجات کا ذَرِیعہ بن جائے اور بظاہِر گُناہ کتنا ہی معمولی نظر آتا ہو ہر گز ہر گز نہ کرے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمارے حالِ زار پر رَحم فرما،ہمیں